انٹارکٹیکا کی زمین بلندہونےلگی


انٹارکٹیکا کی زمین بلندہونےلگی

سائنس دانوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ براعظم انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کے ساتھ ساتھ اس کی سرزمین بھی تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور اس سے سمندری سطح میں اضافے کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔اس تازہ سائنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تغیر کے نتیجے میں جنوبی براعظم انٹارکٹیکا کی برف کے پگھلاؤ میں تیزی آ رہی ہے، مگر ساتھ ہی اس برف کے نیچے موجود زمین بھی بلند ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سمندری سطح میں بلندی کی رفتار خدشات کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق مغربی انٹارکٹیکا میں قشر ارض (سطح زمین) کے بلند ہونے کی رفتار چار اعشاریہ ایک میٹر سالانہ ہے، یعنی اس صدی کے آخر تک یہاں سرزمین چار میٹر سے زائد بلند ہو چکی ہو گی۔ بین الاقوامی سائنس دانوں کی ٹیم نے تحقیقی جریدے سائنس میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ بالکل یوں ہے، جیسے کوئی میٹرس (گدے) سے اٹھے اور وہ گدا دباؤ ختم ہونے کے بعد بلند ہو جائے۔سائنس دانوں کے مطابق براعظم انٹارکٹیکا کی سرزمین کی بلندی میں بعض مقامات پر اضافے کا اندازہ رواں صدی کے اختتام تک آٹھ میٹر سے بھی زائد ہے۔ اس سے بنگلہ دیش اور فلوریڈا جیسے ساحلی علاقوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے بہتری میں مدد مل سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ڈنمارک اور اوسکو اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ اس تحقیقی رپورٹ کی مصنف ویلینٹینا بارلیٹا نے کہا،  انٹارکٹیکا سے یہ ایک اچھی خبر ہے‘‘

انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق کے لیے مغربی انٹارکٹیکا میں برف سے نیچے براعظم کی چٹانی سطح پر جی پی ایس سینسر نصب کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ مغربی انٹارکٹیکا برف کی موجودگی کے اعتبار سے اہم ترین ہے اور یہاں موجود برف پگھلنے سے سمندری سطح میں تین میٹر تک کے اضافے کے خدشات ہیں، تاہم اس علاقے کے قشر کا بلند ہونا سمندری سطح میں اضافے کی رفتار کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سن 1992 سے اب تک انٹارکٹیکا سے قریب تین ٹریلین ٹن برف پھگل کر سمندر میں شامل ہو چکی ہے۔

بشکریہ:

Dw.com

 

 

 

 



Jump to Landing Page | More News

If you want to report any news then contact us @ [email protected]