دوسری دنیا کی تلاش، فاسٹ نے کام شروع کردیا


دوسری دنیا کی تلاش، فاسٹ نے کام شروع کردیا
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ سی سی ٹی وی کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی چاہینی ٹیلی سکوپ نے کام شروع کر دیا ہے ۔ فاسٹ(five-hundred-metre Aperture Spherical Radio Telescope) دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی سکوپ ہے ۔اس منصوبے کا آغاز 2011 میں کیا گیا تھا جسے ماہرین نے جولائی 2016 میں مکمل کیا ۔
چین کی قومی  فلکیاتی  رصدگاہ (National Astronomical Observatories) کی تحقیقی ٹیم کے رکن قیان لی نے بتایا کہ فاسٹ خلائی محققین کے لیے ریڈیو ویوز کی کھوج اور کائنات کی مزید تلاش کے لیے ایک بہترین  آلہ ثابت ہو گی۔فاسٹ اس پروگرام کا حصہ ہے جو کائنات میں موجود دیگر سیاروں سے حاصل ہونے والی ریڈیو ویوز کی کھوج لگانے کے لیے بنایا گیا تھا ۔
قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ڈائریکٹر پنگ گو کا کہنا ہے کہ ایلین (خلائی مخلوق)کی تہذیب کا پتہ چلانے کے لیے فاسٹ موجودہ مشینری سے 5 سے 10 گنا زیادہ طاقتور ہے  اور اس کی مدد مزید تاریک ستاروں کی دریافت ممکن ہو گی ۔
اس ٹیلی سکوپ کو جنوب مغربی چین کے اقتصادی حوالے سے غریب صوبے گوئی ژو میں نصب کیا گیاہے۔اس کا سائز 30 فٹ بال گراونڈ جتنا ہے۔چینی ‌حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مجموعی طور پر 180 ملین امریکی ڈالرز  کے برابر لاگت سے تیار کردہ یہ ریڈیائی ٹیلی سکوپ آئندہ بیس سالوں کے دوران دنیا بھر میں اس شعبے میں کی جانے والی تحقیق میں قائدانہ کردار ادا کرے گی۔چین کی موجودہ حکومت نے خلائی پروگرام کو اپنی بڑی ترجیح بنا رکھا ہے اور صدر شی جن پنگ کی بھی خواہش ہے کہ مستقبل میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس سب سے بڑے ملک کو خلائی تحقیق کے شعبے میں بھی ایک عالمی طاقت ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ چین خلامیں سٹیشن کی تیاری کے ساتھ ساتھ دیگر منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کر رہا ہے ۔
 چینی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا خلائی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی سوچ یہ ہے کہ بیجنگ اپنی خلائی صلاحیتوں میں جو اضافہ کر رہا ہے،اس کے ذریعے وہ مستقبل میں اپنے حریف ممالک کو اس عمل سے روکنا چاہتا ہے کہ وہ بحرانی حالات میں خلا میں اپنے اثاثوں کو استعمال میں لا سکیں۔



Jump to Landing Page | More News

If you want to report any news then contact us @ [email protected]