عدالت کا برطانوی ہیکر کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ


برطانوی عدالت نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے برطانوی شہری لوری لو کو امریکی اداروں میں ہیکنگ کے الزام میں امریکی حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 31 سالہ لوری کو ایف بی آئی میں ہیکنگ کے سلسلے میں پہلے ہی 99 سال جیل کی سزا کا سامنا ہے ۔لوری نے 2012 اور 2013 کے درمیان امریکی آرمی ، امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی ،ناسا اور نیویارک کے فیڈرل ریزور بینک میں ہیکنگ کی تھی۔

لوری کے اہل خانہ اور وکلا نے لوری کو امریکہ کے حوالے کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

عدالت نے کہا ہے کہ لوری کو امریکی حوالے سے کیس سیکرٹری آف سٹیٹ کو بھیجوایا جا ئے گا ۔تاہم لوری کوعدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے ۔لوری کی اپیل کو ہوم سیکرٹری کو بھیجوایا جا ئے گا۔

جج ٹیمپیا نےکہا ہے مجھے لوری کی جسمانی اور ذہنی صحت کی بیماری کا اندازہ ہے مگر میں جانتی ہوں کہ امریکی جیلوں میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں ۔اور میں پر امید ہوں کہ امریکی انتطامیہ لوری کو تمام ضروری سہولیات مہیا کرے گی ۔

لوری کواکتوبر 2013 میں انگلیڈ میں اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا ۔اس دوران پولیس نے ایک پروٹیکٹیڈ لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک کو بھی قبضے میں لے لیا تھا ۔ ایجنسیوں نے عدالت کو کہاتھا کہ وہ لوری کو مجبور کرے کہ وہ اپنا پاس ورڈ دے ۔تاہم دو سال کی عدالتی جنگ کے بعد لوری نے فتح حاصل کی اور عدالت نے کہا تھا کہ ایجنسیاں دوسرے ذرائع سے لوری کے خلاف ثبوت اکھٹے کرے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایک برطانوی ہیکر گیری مکینین نے بھی مذکورہ اداروں میں ہیکینگ کا اعتراف کیاتھا۔ جسے امریکہ کے حوالگی کے خلاف ہائی کورٹ سے جوڈیشل ریویو کی اجازت مل گئی تھی ،گیری کی والدہ کا کہنا تھا کہ 42 سالہ گیری سینڈروم کا مریض ہے ۔جبکہ گیری کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر گیری کو اس کے والدین سے دور کیا گیا تو وہ خود کشی کر لے گا۔ جس پر عدالت نے گیری کو برطانوی عدالت میں نظرثانی کی درخواست دینے کی اجازت دی تھی۔



Jump to Landing Page | More News

If you want to report any news then contact us @ [email protected]