پاکستانی طلبا نے پہلا ہائبرڈ راکٹ تیار کر لیا


پاکستانی طلبا نے پہلا ہائبرڈ راکٹ تیار کر لیا

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی صفہ یونیورسٹی (DSU) کے طلبا نے پہلا کم خرچ ہائبرڈ راکٹ تیار کر لیا ہے۔ راکٹ کی تیاری میں روایتی لاگت کی نسبت بہت کم خرچ آیا۔

راکٹ سازی کی اس ٹیم میں فائنل ایئر مکینیکل انجینئرنگ کے دو طالبعلم وقاص اسلم اور خضر صدیقی شامل ہیں جبکہ شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے سربراہ اور ایئرو سپیس میں پی ایچ ڈی کے حامل ڈاکٹر بلال احمد صدیقی ٹیم کے نگران ہیں۔

اس نئے راکٹ کا نام راحیل ون رکھا گیا ہے۔اس کی تیاری میں 6 ماہ صرف ہو ئے اور تقریباً 50 ہزار روپے کے اخراجات آئے۔ ٹیم رواں ماہ اب تک راکٹ کا تین بار تجربہ کر چکی ہے۔ مکینیکل لیب انجینئر ماہ رخ ممتاز حسین نے بتایا کہ راحیل ون ابھی تک تجرباتی مراحل میں ہے، کامیابی کی صورت میں پاکستان میں کم خرچ راکٹ تیار کیے جا سکیں گے۔

ڈی ایس سو ہائبرڈائزڈ فیول پاور پروگرام پاکستان کا پہلا جبکہ ایشیا کا دوسرا پروگرام ہے ۔ ڈی ایس یو کا شمار دنیا بھر کی ان بیس یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے جہاں ہائبرڈائزڈ فیول پاور پروگرام پر کام کیا جا رہا ہے۔

اس راکٹ کو ایک کمپیوٹر ایپلی کیشن سے کنٹرول کیا جاسکے گا جو راکٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کی لمحہ با لحمہ رپورٹ دے گی۔ مذکورہ یونیورسٹی پاکستان میں توانائی کے بحران کے پیش نظر ہائبرڈ تیز ترین گاڑی جس کی متوقع سپیڈ 500 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو گی، کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے اور اگر اس میں محققین کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو یہ پاکستان کیلئے یقیناً بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

اگر حکومت اس طرح کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور تعاون فراہم کرے تو ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران پر یقیناً قابو پایا جا سکتا ہے۔

 



Jump to Landing Page | More News

If you want to report any news then contact us @ [email protected]